ظلم کی انتہاء، سندھ کے ضلع ٹنڈوالہ یار میں غریب لڑکی اغوا کے بعد 4 ماہ تک زیادتی کا نشانہ بنتی رہی

متاثرہ لڑکی معجزانہ طور پر اغوا کاروں ,,کے چنگل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئی,، پولیس ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام
ٹنڈو الہ یار ( 20 فروری2021ء) ظلم کی انتہاء، سندھ کے ضلع ٹنڈوالہ یار میں, غریب لڑکی اغوا کے بعد 4 ماہ تک زیادتی کا نشانہ بنتی رہی، متاثرہ لڑکی معجزانہ طور پر اغوا کاروں کے چنگل سے ,فرار ہونے میں کامیاب ہوئی، پولیس ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام۔ تفصیلات کے مطابق سندھ کے ضلع ٹنڈوالہ یار ,میں ایک غریب لڑکی پر ظلم کے پہار توڑ دیے گئے۔ ٹنڈوالہ یار کے علاقے گوٹھ ٹنڈوسومرو سے تعلق رکھنے والی لڑکی کو 4 ماہ قبل ,اغوا کیا گیا جس کے بعد اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ 4 ماہ تک درندگی کا نشانہ بننے کے بعد متاثرہ لڑکی ,ایک دن موقع پا کر اغوا کاروں کے چنگل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئی۔ گھر پہنچنے کے بعد متاثرہ لڑکی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ پولیس ,اسٹیشن پہنچی جہاں ایف آئی آر, درج کروائی گئی۔ پولیس نے زیادتی کا شکار ہونے والی لڑکی فاطمہ بی بی کا بیان سنے کے بعد ,عبدالرافع تھیبو، غلام رسول تھیبو اور عباس تھیبو سمیت 4 ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کر لیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی, تفتیش شروع کر دی گئی، متاثرہ لڑکی کو جلد عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ملک میں گزشتہ چند ماہ کے دوران, رپورٹ ہونے والے جنسی زیادتی کیسز کی شرح میں, تشویش ناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ لاہور میں موٹروے زیادتی کیس کے بعد ملک بھر میں ,عوام نے ایک مہم شروع کی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ جنسی زیادتی ملزمان کو سرعام پھانسی یا سخت ترین سزائیں, دی جائیں۔ وزیراعظم اور کئی وزراء نے بھی اس مطالبے کی حمایت کی۔ عوامی مہم کے نتیجہ میں جنسی زیادتی کے ,بڑھتے واقعات کی روک تھام کیلئے وفاقی کابینہ نے’’کسٹریشن قانون‘‘ فوری نافذ کرنے کی منظوری دے دی تھی

Post a Comment

0 Comments