مائرہ کے قتل کے وقت گھر پر سو رہا تھا

مائرہ سے پہلے دوستی تھی جو ظاہر جدون سے تعلق کے بعد ختم ہوگئی، مائرہ کو کبھی اغوا کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ملزم سعد امیر بٹ نے تمام الزامات سے انکار کر دیا
لاہور (2021ء) :لاہور میں پاکستانی نژاد برطانوی لڑکی مائرہ کے قتل کیس میں مرکزی ملزم سعد امیر بٹ پولیس کے سامنے پیش ہو گیا۔ملزم کا کہنا ہے کہ اس نے مائرہ کو قتل نہیں کیا۔قتل کی واردات کے وقت وہ گھر پر سو رہا تھا۔سعد امیر نے بتایا کہ مائرہ سے پہلے دوستی تھی جو بعد میں ختم ہوگی کیونکہ ماہرہ کا ظاہر جدون سے تعلق بن گیا تھا، اس نے مزید بتایا کہ مائرہ نے اغوا کا جھوٹا مقدمہ درج کرانے کی کوشش بھی کی تھی جبکہ میں نے اسے اغوا کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ پولیس ذرائع کےمطابق ملزم سعد امیر عبوری ضمانت کروانے کے بعد شامل تفتیش ہوا۔۔اے ایس پی ڈیفنس سدرہ خان نے میرا موقف سن کر چھوڑ دیا تھا۔پولیس مائرہ قتل کیس میں نامزد ملزم ظاہر جدون کو تاحال گرفتار نہیں کر سکی جبکہ مائرہ ذوالفقار کے پراسرار قتل کے حوالے سے لڑکی کے والد کا بیان سامنے آگیا ، مائرہ کے والد ذوالفقار علی نے الزام عائد کیا ہے کہ میری بیٹی مائرہ کو دھوکے سے لندن سے بلوا کر قتل کیا گیا ، مائرہ نے ایل ایل ایم کیا تھا اور وہ پاکستان کے لیےکچھ کرنا چاہتی تھی ، ریاست مدینہ سے پیار کرنے والے وزیراعظم عمران خان ہمیں انصاف دلائیں۔ علاوہ ازیں پاکستانی نژاد برطانوی لڑکی قتل کیس میں مقتولہ کی دوست کو بھی شامل تفتیش کیا گیا ہے ، اس حوالے سے پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں نامزد ایک ملزم کا مقتولہ کی دوست سے رابطہ ہوا تھا جب کہ پولیس کو دیے گئے بیان میں مقتولہ کی دوست نے بتایا کہ مقتولہ کی مجھ سے رابطہ کرنے والے ملزم سے چپقلش چل رہی تھی ، ملزم نے مجھ سے رابطہ کرکے مقتولہ کی دوست سے متعلق پوچھا تھا جب کہ مقتولہ واقعے سے ایک روز قبل پریشان تھی ، کیوں کہ ،مقدمہ میں نامزد2 ملزمان مقتولہ سے شادی کے لیے دباؤ ڈال رہے تھ

Post a Comment

0 Comments