تحریر
سنو بیگم ! زیادہ پریشان مت ہونا ،ابھی عید میں کئی دن باقی ہیں ،عید قریب ہوگی تو بچوں کی تیاری بھی ہوجائے گی ،بلاوجہ اتنا پریشان مت ہو۔بیگم نے کہا : آپ فکر نہ کریں فیکٹری میں آ ج زکوۃ کی مد میں ہر شخص کو 2000 رو پے کی رقم تقسیم کی جا ئےگی اس میں بچوں کی کچھ تو تیاری ہو جائے گی آ پ مجھے صرف 100 روپے دیتے جائیں تا کہ میں پڑوسن کے ساتھ جا کر یہ رقم حاصل کرلوں ۔شو ہر نے ایسا کر نے سے منع کیا لیکن ان بیگم صاحبہ بضد تھیں کہ ایسا کر نے کی اجازت دے دی جائے ۔شوہر نے بالآ خر اپن بیگم کو اجازت دے دی اور وہ اپنے بچوں کوساتھ لئے سائٹ ایریا میںقائم فیکٹری کے اس مقام پر پہنچی جہاں زکوۃ کی تقسیم ہونی تھی ۔
اس مرتبہ ماضی کی نسبت پہلے سے زیادہ مستحق لوگ آس لگائے کھڑے تھے جو جو زکو ۃ کے حصول کے لئے وہاں پہنچے ،اتنے لوگوں کی مو جود گی کےسبب فیکٹری کی وہ جگہ سیکڑوں افراد کے لئے کم پڑ گئی اور پھر وہ ہوا جس کی توقع نہیں تھی۔شاید کچھ تا خیر ہونے کے سبب اس مقام پر دھکم پیل ہوئی اور زکوۃ کے حصول کے لئے آئے لوگ منتشر ہوئے اور ایسے ہوئے کہ یک دم بھگد ڑ مچ گئی،خاتون اور بچے پاوں میں روندے گئے یہاں تک کہ خاتون اور بچوں سمیت 12 افراد لقمہ اجل بن گئے۔انہیں انتقال کر نے والوں میں ایک بد نصیب یہ خاتون بھی تھی جنہوں نے اپنے شوہر کواعتماد میں لے کر زکوۃ کے حصول کے لئے رخت سفر اختیار کیا تھا لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ ان کا یہ سفر ،سفر آخرت ہوگا (انا للہ واناا للہ راجعون)
اس واقعے نےہر اس شخص کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہو گا جواس وقت معاشی تنگی کا شکار ہے اور اپنے زیر کفالت اہل خانہ کی بنیادی ضروریات کے حصول میں سخت آ زما ئش سے گز ررہا ہے ۔تصور کے آئینےمیں ذ را دیکھیں تو صحیح کہ وہ کیا عالم ہوگا جب ایک ماں اپنے بچوں کی خوشی کی خاطر فنا ءہونے کے لئے دہلیز پر قدم رکھا ہوگا ،شوہر اپنی زوجہ کی فکر ختم کر نےکے لئے اسے اپنی محبت کا یقین دلانے کے ساتھ یہ بات جتانے کی کوشش کر رہا ہو گا کہ تم اکیلی ہی نہیں بلکہ ہم مل کر اپنے بچوں کی خو شیوں کا اہتمام کریں گے لیکن! اتنی جلد بازی نہ کرو اور ذرا صبر سے کام لو ۔ایک دوسرے کا خیال رکھنے اور بچوں کی خوشی کی خا طر اپنی عزت نفس تک قربان کر نے وا لے ان والدین کی یہ مختصر سی منظر کشی شاید ہر دوسرے شخص کی ہے اور وہ اس بات پر واقعی فکر مند بھی ہے کہ آخر رمضان المبا رک کے بعد عید سعید کے موقع پر وہ اپنے بچوں کی خوشیاں کس طرح حاصل کر پائیں گے ؟
ایسے لوگوں سے بالخصوص خوا تین سے بس ہاتھ جوڑ کر چھوٹی سی التجا ہے کہ اگر آ پ کے شوہر کی آ مدنی آ پ کے اخراجات سے کم ہے تو اس کی خد دا ری کو قا ئم رہنے دیجئے ،میرا ہر گز کہنےکا یہ مقصد نہیں کہ آ پ خو ددار نہیں ہیں لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ اگر آپ کا شوہر یا گھر کا سربراہ آ پ کی کفالت اور ضروریات زندگی کے حصول کے لئے سنجیدگی سے اپنی پوری کوششوں میں لگا ہوا ہے اس لئے یہاں وہاں بھٹکنے سے بہتر ہے کہ اس کی ہمت بنئے ،اسے پریشان کر نے اور طعنہ ما رنےکے بجائے اس کا سا تھ دیجئے ،چاہے کچھ بھی ہوجائے اس کی اجازت کے بغیر کوئی قدم نہ اٹھا یئے کیونکہ اسے اپنی عزت نفس کے سا تھ ساتھ آپ کی عزت نفس اور ضروریات زندگی کا اپنے سے زیادہ خیال ہوتا ہےاور زمانے بھر کی خوشیاں اپنے بچوں کو میسر کر نے کے لئے اپنی خو اہشات کی قربانی تک دے دیتا ہے ۔اس لئے اس معاشی تنگی کے پیش نظر جتنا ہے اتنے پر گزارے کی کوشش کیجئے اور بچوں کو سمجھانے کی کوشش کیجئے یا پھر اپنے وسائل
بڑھانے کی کوشش کیجئےکیونکہ جان ہے تو جہان ہےورنہ سب خوشیاں بیکار ہیں.
نوٹ
تحریر پڑھنے کے بعد اگر مناسب اور دوسروں کے لئے فائدہ مند سمجھیں تو ضرور شیئر کریں





0 Comments
Allah