میاں چنوں میں خواتین کی انڈر گارمنٹس سرعام فروخت ہونے پر بھی کوئی پابندی ہونی چاہیئے

خواتین کی انڈر گارمنٹس سرعام فروخت ہونے پر بھی کوئی پابندی ہونی چاہیئے،

 ہمارے بازاروں میں ہر چوک پر پھٹے لگے ہوتے ہیں اور ان پر خواتین کے انڈر گارمنٹس کی سیل لگی ہوتی ہے،

میاں چنوں میں خواتین کی انڈر گارمنٹس سرعام فروخت ہونے پر بھی کوئی پابندی ہونی چاہیئے



ہاتھ میں اٹھا کر ہوا میں لہرا کر آوازیں لگائی جاتی ہیں
آ جائیں باجی 
دیکھ لیں باجی 
بہت سافٹ ہے باجی 
برانڈڈ ہے باجی

امید ہے کہ یہ لوگ اپنی باجیوں کو بھی اسی طرح فروخت کرتے ہوں گے،
میاں چنوں میں خواتین کی انڈر گارمنٹس سرعام فروخت ہونے پر بھی کوئی پابندی ہونی چاہیئے



یقین جانیں میں نے ایسے بہت سے لوگ دیکھے ہیں جو خواتین کی انڈر گارمنٹس کا کام ایک خاص مقصد کے تحت کرتے ہیں،

مجھے بڑے شہروں کے وہ شاپنگ مالز پسند ہیں جہاں خواتین کے انڈر گارمنٹس کی فروخت کیلئے ایک الگ سے کیبن بنا ہوتا ہے اور فروخت کیلئے باقائدہ خواتین کو ہی رکھا جاتا ہے،
میاں چنوں میں خواتین کی انڈر گارمنٹس سرعام فروخت ہونے پر بھی کوئی پابندی ہونی چاہیئے



پرائیویٹ چیزیں سرعام فروخت ہوتے ہرگز اچھی نہیں لگتیں 
چھوٹے بچے ان گلیوں اور چوک سے گزرتے ہیں،

بعد میں سوال جنم لیتے ہیں کہ چھوٹے چھوٹے بچوں میں فریسٹریشن کہاں سے پیدا ہوتی ہے،
میاں چنوں میں خواتین کی انڈر گارمنٹس سرعام فروخت ہونے پر بھی کوئی پابندی ہونی چاہیئے



یہ بھی کم عمر بچوں میں فریسٹریشن پیدا ہونے کا 1 زریعہ ہے اور کچھ دکاندار فروخت کے دوران ہی کچھ مخصوص جملوں کا استعمال کرتے ہیں،

یہ جملے ایک طریقہ واردات کا حصہ ہیں مہربانی کریں کاروبار کریں اپنی نسل کو بر راہ روی پر مت ڈالیں،

مسلمان بنیں اور حیا کو فروغ دیں،
میاں چنوں میں خواتین کی انڈر گارمنٹس سرعام فروخت ہونے پر بھی کوئی پابندی ہونی چاہیئے



اگر کسی کو میری بات سے تکلیف ہو تو معزرت چاہوں گا،

Post a Comment

0 Comments